امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث رواں سال کے آخر میں کواڈ سمٹ کے لیے طے شدہ بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ابتدائی طور پر مودی کو بتایا تھا کہ وہ کواڈ سمٹ میں شرکت کے لیے بھارت آئیں گے، تاہم اب ان کے خزاں میں دورے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ بھارت اس سال کے آخر میں کواڈ سمٹ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مودی مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان 4 روزہ تنازع کے دوران ٹرمپ کی بار بار ثالثی کی پیشکش پر برہم تھے۔ نئی دہلی نے ان دعووں کو مستقل طور پر مسترد کیا، تاہم ٹرمپ کے بیانات نے دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں دراڑ ڈال دی۔
اسی دوران ٹرمپ نے بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جس کے بعد مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا، جس نے تعلقات کو مزید متاثر کیا۔
یہ صورت حال اس گرمجوشی کے بالکل برعکس ہے جو دونوں رہنماؤں نے ماضی میں 2020ء میں ہیوسٹن کے “ہاؤڈی مودی” ریلی اور احمد آباد کے “نمستے ٹرمپ” جیسے شاندار اجتماعات میں ظاہر کی تھی۔
ابھی تک اس مبینہ منسوخی پر وائٹ ہاؤس یا بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے سخت رویے نے تین دہائیوں سے قائم امریکا-بھارت قریبی تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے اور چین کے لیے خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا نیا موقع پیدا ہو گیا ہے۔






