القادر ٹرسٹ کرپشن کیس: عمران خان کی 2 ہفتے کیلئے عبوری ضمانت منظور

0
148

اسلام آباد(روزنامہ طلوع) اسلام آباد ہائیکورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت 2 ہفتے کیلئے منظور کر لی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بنچ نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو کمرۂ عدالت میں عمران خان کے حق میں نعرے لگائے گئے، نعرے لگانے پر ججز نے اظہارِ برہمی کیا اور عدالت سے اٹھ کر چلے گئے۔اس موقع پر میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس طرح نہیں چلے گا، یہ کوئی طریقہ نہیں، مکمل خاموشی ہونی چاہیے۔جس کے بعد عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت میں جمعے کی نماز کا وقفہ کر دیا گیا۔

عدالت میں نماز جمعہ کے وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا گیا تو خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری اور حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے، ہم نے ایک اور درخواست میں انکوائری رپورٹ کی کاپی مانگی ہوئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ نیب کو انکوائری رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے، نیب کی انکوائری رپورٹ کا اخبار سے پتہ چلا۔

عدالت نے سوال کیا کہ آپ کو نوٹس کے ساتھ کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا، کیا آپ نے نیب آفس وزٹ کیا؟ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون نے اپنے دلائل میں کہا کہ جو پٹیشن یہاں دائر کی گئی اس کیلئے متبادل فورم موجود ہے، رٹ پٹیشن میں یہ معاملہ ہائیکورٹ لانے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں، آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا ہے، جس طرح کے پر تشدد واقعات ہوئے اس کے بعد فوج کو طلب کیا گیا۔

جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ کیا یہاں مارشل لاء لگ گیا ہے کہ ہم تمام درخواستوں پر سماعت روک دیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر عدالت اٹارنی جنرل کو بلا کر بھی سن لے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے عدالت میں کہا کہ 15 جولائی کو انکوائری شروع ہوئی جس کے بعد کال اپ نوٹس جاری ہوا، عمران خان کبھی بھی انکوائری میں پیش نہیں ہوئے، اس کیس میں ایک بزنس ٹائیکون، زلفی بخاری اور دیگر کو نوٹسز ہوئے، میاں محمد سومرو، فیصل واوڈا اور دیگر کو بھی نوٹسز ہوئے جنہوں نے انکوائری جوائن کی، شہزاد اکبر کو بھی نوٹس ہوا مگر انکوائری جوائن نہیں کی۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی دو ہفتوں کیلئے عبوری ضمانت منظور کر لی اور نیب کو عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔جسٹس حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوشن سے کہا کہ آئندہ سماعت پر ہم دلائل سن کر ضمانت منظور یا خارج کرنے کا فیصلہ کرینگے، آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کر کے آئیے گا۔خواجہ حارث نے بتایا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں انکوائری کی کاپی مل گئی ہے ، بشریٰ بی بی کے کیس میں بھی انکوائری رپورٹ مل گئی ہے۔

قبل ازیں ڈی آئی جی آپریشنز کی نگرانی میں پولیس چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو پولیس لائنز سے لے کر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی،عدالت پہنچنے کے بعد عمران خان ڈائری برانچ میں گئے جہاں ان کا بائیو میٹرک کیا گیا۔عمران خان کی عدالت میں پیشی کے موقع عدالت کے اطراف پی ٹی آئی کارکنان جمع ہوگئے جنہیں پولیس نے منتشر کر دیا۔

وقفے کے بعد سماعت سے قبل ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون اور پی ٹی آئی کے وکیل سیف الرحمٰن کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔عمران خان کمرۂ عدالت میں کھڑے ہوگئے اور کہا کہ تمام لوگ پُرامن رہیں اور عدالت کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔عمران خان نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون سے معافی مانگ لی، عمران خان کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل سیف الرحمٰن نے بھی جہانگیر جدون سے معافی مانگ لی۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے سماعت سے قبل گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر اپنی لیگل ٹیم سے رابطہ کیا،عمران خان نے وکیل حامد خان سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ پنجاب پولیس مجھے گرفتار کرنے کیلئے باہر کھڑی ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں آپ کو تمام صورتحال سے آگاہ کر رہا ہوں، مجھے دوبارہ گرفتار کیا گیا تو وہی ردعمل آئے گا ، میں نہیں چاہتا کہ دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو، آپ صورتحال کے حوالےسے تیاری کریں۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے خصوصی ڈویژن بنچ تشکیل دیا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل بنچ تشکیل دیا تھا۔عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے 100 فیصد خدشہ ہے کہ آج گرفتار کر لیا جاؤں گا۔

صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ کیا آپ آج گرفتار ہو سکتے ہیں؟عمران خان نے صحافی کے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے نیب نے اپنی اہلیہ سے بات کرنے کی اجازت دی تھی۔

صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ کو گرفتاری کے دوران فون مل گیا تھا؟ عمران خان نے جواب دیا کہ میں نے لینڈ لائن کے ذریعے بات کی تھی۔عمران خان سے سوال کیا گیا کہ فون آپ کو اہلیہ سے بات کرنے کیلئے دیا گیا تھا، آپ نے مسرت چیمہ کو ملا دیا؟،عمران خان نے جواب دیا کہ میری بشریٰ بی بی سے بات نہیں ہو سکی تھی۔

عمران خان کی پیشی سے قبل کورٹ روم نمبر 3 میں شدید دھکم پیل نظر آئی، جس کے بعد غیر متعلقہ افراد کو کورٹ روم نمبر 3 سے نکال دیا گیا۔اس موقع پر وکلاء کی سکیورٹی عملے سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ان کے وکلاء نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کے علاوہ 4 دیگر درخواستیں بھی دائر کیں۔درخواست میں استدعا کی گئی عمران خان کے خلاف جتنے مقدمات درج ہو چکے ان کی تفصیلات فراہم کی جائے اور ان تمام مقدمات کو یکجا کر دیا جائے۔القادر ٹرسٹ سے متعلق کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر کی گئی، درخواست میں چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے۔دوسری جانب قومی احتساب بیور (نیب) نے آج ہی عدالت میں درخواست ضمانت کی مخالفت کا فیصلہ کر لیا، ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب سردار مظفر چیف جسٹس کی عدالت میں موجود ہیں۔

عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے باعث عدالت کے اطراف سکیورٹی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں، پولیس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے پچھلے دروازے کو سیل کر دیا ہے اور دو دروازوں پر سکیورٹی کےانتہائی سخت انتظامات ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیراعظم و پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی گرفتاری غیرقانونی قرار دی تھی، تاہم بنی گالا جانے کی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو پولیس لائنز گیسٹ ہاؤس منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے آج اسلام آباد ہائی کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ میں عمران خان کی گرفتاری کو گزشتہ روز چیلنج کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی گرفتاری قانونی قرار دی تھی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا