لاہور — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ نے کوٹ لکھپت جیل سے لکھے گئے اپنے مشترکہ خط میں انکشاف کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جیل سے پیغام دیا ہے کہ “اس وقت تمام کام چھوڑ کر صرف سیلاب زدگان کی مدد کو ترجیح دی جائے۔”
خط کے متن میں کہا گیا کہ ملک پہلے ہی بدترین معاشی بحران کا شکار ہے جبکہ حالیہ سیلاب نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں حالات پر بمشکل قابو پایا گیا اور وہاں بحالی کا عمل جاری ہے، تاہم پنجاب کے 25 اضلاع ابھی تک شدید متاثر ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے خط میں لکھا کہ بھارت کی مسلسل جارحیت کے باوجود وفاقی حکومت نے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا، جو کہ “جیتی ہوئی جنگ کو ہارنے کے مترادف ہے۔”
خط کے مطابق اب تک 25 سے 30 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہو چکے ہیں، اور ماہرین کے مطابق آئندہ دو روز میں یہ تعداد دگنی ہوسکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں صرف 60 سے 70 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ مال مویشی بھی بڑی تعداد میں سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ گندم، چاول، مکئی، آلو، کپاس اور سبزیوں کی فصلیں تباہ ہوگئیں، اور مارکیٹ میں گندم کی بوری دگنی قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔
خط میں پنجاب حکومت کو بدترین ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کا واضح پیغام ہے کہ “سیلاب متاثرین کی بحالی اور مدد سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔”






