یروشلم — اسرائیلی سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو دن میں تین وقت کھانا فراہم کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قیدیوں کو بنیادی خوراک سے محروم رکھنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
تین رکنی بینچ کے متفقہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت فلسطینی قیدیوں کو معیاری اور وافر خوراک دینے کی پابند ہے۔ یہ فیصلہ دو اسرائیلی انسانی حقوق تنظیموں کی درخواست پر سنایا گیا جنہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ قیدی خوراک کی کمی کے باعث بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں فلسطینی بغیر کسی الزام کے گرفتار کیے گئے، جبکہ رہائی پانے والے قیدیوں نے جیلوں کے اذیت ناک حالات بیان کیے ہیں، جن میں ناکافی خوراک اور طبی سہولتوں کی کمی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک 61 فلسطینی اسرائیلی قید میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں ایک 17 سالہ نوجوان بھی شامل ہے جو مبینہ طور پر بھوک اور غذائی قلت کے باعث جاں بحق ہوا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فلسطینی قیدیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے تاہم اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا حکومت کی اصل ذمہ داری ہوگی۔






