اسرائیلی فوج نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے دفتر پر حملہ کیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب حماس کی قیادت غزہ جنگ بندی معاہدے پر مشاورت کے لیے جمع تھی۔
اسرائیل نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ اس میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے پورے مشرق وسطیٰ کے لیے پیغام قرار دیا۔
حماس کے رکن سہیل الہندی نے بتایا کہ حملے میں حماس قیادت محفوظ رہی، تاہم خلیل الحیہ کے بیٹے حمّام الحیہ اور دفتر کے انچارج جہاد لبد شہید ہوگئے، اور 3 محافظوں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔






