اسلام آباد(طلوع نیوز)ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی پر کسی قسم کا کوئی ابہام نہیںتنازعہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے، پاکستان اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تنازعہ کشمیر کا حل چاہتا ہے، پاکستان نے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور کرتا رہے گا،، افغان شہریوں کی فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے معاملے پر وزارت داخلہ بہتر بتا سکتی ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 70 سال سے مسلسل کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہا ہے پاکستان اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تنازعہ کشمیر کا حل چاہتا ہے۔پاکستان، کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق انہیں حق خودارادیت کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے، تنازعہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ دیرینہ تصفیہ طلب مسئلہ ہے پاکستان نے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور کرتا رہے گا۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی پر کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں تنازعہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے بھارتی غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر پر پاکستان کا موقف اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں میں پنہاں ہے پاکستان کی تنازعہ کشمیر پر پالیسی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں جب بھی صدر یا وزیراعظم کسی سفیر سے ملاقات کرتے ہیں، وزارت خارجہ کو اعتماد میں لیا جاتا ہے ۔ کشمیریوں کی ملکیتی زمین کاروبار، دیگر اثاثے بیرونی افراد یا ممالک کو دینے کی مذمت کرتے ہیں۔پاکستان جمہوری ملک اور اپنے آئین و قوانین کے تحت داخلی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہبی آزادیوں سے متعلق رپورٹ کو مسترد کرتا ہے ایسی رپورٹس گمراہ کن پروپیگنڈے کو جنم دیتی ہیںپاکستان میں مذہبی آزادیوں، حقوق بشمول اقلیتی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جا رہا ہے پاکستان کو دنیا میں بڑھتے نسلی امتیاز، اسلاموفوبیا اور سلب ہوتی مذہبی آزادیوں پر شدید تشویش ہے۔ پاکستان غزہ میں اسرائیلی قابض فورسز کے ظلم و ستم کی شدید مذمت کرتا ہے پاکستان 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا ہے پاکستان اور آیرلینڈ کے مابین سیاسی مشاورت کا اہم دور اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے پاکستان اقوام متحدہ اقلیتی امور کے ماہر فرنینڈ ڈی ویرینس کی مقبوضہ جموں و کشمیر پر رپورٹ کا خیرمقدم کرتا ہے جی 20 رکن ممالک کو اقوام متحدہ ماہر اقلیتی امور کے خدشات کو دیکھنا ہو گاپاکستان ملکی قوانین کے تحت مقامی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے پاک، ایران قیادت کے مابین مند، پشین سرحد پر ملاقات ہو گی، دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے پاکستان دوست ممالک سے رابطے کے لیے بہت سے چینلز استعمال کرتا ہے پاکستان ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بیرون ممالک کسی بھی پاکستانی کے ساتھ حادثے کی صورت ہمارے مشن اور وزارت فوری اقدامات اٹھاتی ہے،وزارت خارجہ بیرون ممالک اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں رہتی ہے پاکستانی شہریوں کو بھی متعلقہ ممالک کے جملہ قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔فوجی افسران سمیت سرکاری حکام کا ہر بیرون دورہ وزارت خارجہ کے ضوابط کے مطابق ہوتا ہے ۔پاک آرمی چیف کے دورہ قطر پر بھی وزارت خارجہ نے مکمل معاونت فراہم کی ہے ۔فوجی افسران سمیت سرکاری حکام کا ہر بیرون دورہ وزارت خارجہ کے ضوابط کے مطابق ہوتا ہے ۔ ایک سوال پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کی فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے معاملے پر وزارت داخلہ بہتر بتا سکتی ہے وزارت داخلہ کی جانب سے معلومات فراہم کی گئیں تو معاملے پر کابل سے رابطہ کر سکتے ہیں،افغان مہاجرین کی باوقار وطن واپسی پر افغان دوستو، بھائیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔






