آئی ایم ایف نے بجلی چوری روکنے، لائن لاسز کم کرنے کیلئے تجاویز طلب کر لیں

0
188

عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے بجلی چوری روکنے، لائن لاسز کم کرنے اور کیپسٹی چارجز میں کمی کے لیے تجاویز طلب کر لی ہیں۔ آئی ایم ایف نے صوبائی حکومتوں کے سرپلس بجٹ اہداف میں کمی کی وجوہات جاننے کے ساتھ ساتھ توانائی شعبے میں اصلاحات پر بھی بریفنگ طلب کی ہے۔

وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ گردشی قرض مقررہ مدت سے پہلے ختم کر دیا جائے گا۔ بجٹ سرپلس کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب 348 ارب، سندھ 283 ارب، خیبر پختونخوا 176 ارب اور بلوچستان 114 ارب روپے سرپلس میں رہے۔

حکومت نے بتایا کہ نجی پاور پلانٹس کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور تین منافع بخش ڈسکوز کی نجکاری پر بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے ڈسکوز کی گورننس بہتر بنانے اور نقصانات میں چلنے والی کمپنیوں کا انتظامی کنٹرول نجی شعبے کے حوالے کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

نئے قرض معاہدے میں 660 ارب روپے کے پرانے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ اور 565 ارب کی نئی فنانسنگ شامل ہے، جس سے مالی بہاؤ میں کمی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا جبکہ صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں آئے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا