اسلام آباد(طلوع نیوز)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نےکہا ہے کہ لوگ پارٹی چھوڑکر نہیں جارہے بلکہ کنپٹی پر بندوق رکھ کر چھڑوائی جارہی ہے،ملک بناناریپبلک بنتاجارہا ہے،شیریں مزاری کی دوبارہ گرفتاری قابل مذمت ہے، شیریں مزاری کی صحت کی صورتحال نازک ہے، دوبارہ گرفتاری ان کی اعصاب شکنی کی کوشش ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو اور اپنے ایک بیان میں کیا ۔احتساب عدالت اسلام آباد میں غیر رسمی گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کبھی پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں، پارٹی اس طرح ختم ہوتی ہے جیسے پی ڈی ایم ختم ہورہی ہے۔ جس طرح پی ڈی ایم کا ووٹ بینک ختم ہو رہا ہے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں صرف کارکنان اور خواتین کے لیےپریشان ہوں، جس طرح کارکنان اور خواتین کےساتھ سلوک کیا جارہا ہےاس پر پریشان ہوں۔
قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے رہائی کے احکامات جاری ہونے کے بعد شیریں مزاری کی اڈیالہ کے باہر سے گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں، یہ حکومت پست ترین سطح تک گرتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شیریں مزاری کی صحت کی صورتحال نازک ہے، عدالتوں کی جانب سے ضمانت ملنے کے باوجود انہیں دوبارہ گرفتار کر کے اس آزمائش کا نشانہ بنانا محض ان کی اعصاب شکنی کی کوشش ہے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ شیریں مزاری کا حوصلہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ ان میں ایسے کئی لوگوں سے زیادہ ہمت ہے جن سے آج تک میرا اپنی زندگی میں واسطہ پڑا ہے، تاہم ملک تیزی سے بنانا ریپبلک بنتا جا رہا ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہوتا ہے۔






