شام میں بشارالاسد کے بعد پہلا الیکشن، احمد الشرع نے خود 70 ارکان نامزد کرلیے

0
268

شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی عبوری پارلیمنٹ کے انتخابات کا عمل مکمل ہوگیا، تاہم اس عمل کو غیر جمہوری قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایک تہائی ارکان کو براہِ راست عبوری رہنما احمد الشرع نامزد کریں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد گزشتہ دسمبر میں بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی اسمبلی دراصل احمد الشرع کی طاقت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔

انتخابات میں 1500 سے زائد امیدواروں نے حصہ لیا جن میں صرف 14 فیصد خواتین شامل تھیں۔ اسمبلی کی کل نشستیں 210 ہیں، جن میں سے 70 براہِ راست الشرع خود نامزد کریں گے جبکہ باقی ارکان کا انتخاب مقامی کمیٹیوں کے ذریعے کیا گیا۔

تاہم دروز اکثریتی صوبہ السویدا اور کردوں کے زیرِ انتظام شمال مشرقی علاقہ انتخابی عمل سے باہر رہا، جس کے باعث 32 نشستیں خالی رہیں۔

الشرع کا مؤقف ہے کہ براہِ راست انتخابات فی الحال ممکن نہیں کیونکہ لاکھوں شامی شہری بے گھر یا بیرون ملک مقیم ہیں جن کے پاس ضروری دستاویزات نہیں۔ عبوری پارلیمنٹ کو 30 ماہ کے لیے قانون سازی کے اختیارات دیے گئے ہیں، جس کے بعد نئے آئین کی تیاری کے ساتھ انتخابات کرائے جائیں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتخابی عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پارلیمنٹ الشرع کو مزید طاقتور بناتی ہے اور اقلیتوں کی نمائندگی کو کمزور کرتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا