اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے مبینہ غیر قانونی اور اشتعال انگیز ایکس (سابق ٹوئٹر) پوسٹس کو ہٹانے اور بلاک کرنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی سمیت تمام فریقین کو دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی تحریری جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار کی جانب سے معروف قانونی ماہر بیرسٹر ظفر اللہ نے پیش ہو کر مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دورانِ قید ایکس اکاؤنٹ پر مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور انتشاری مواد پوسٹ کیا گیا جو قانون اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ایسی پوسٹس کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور ان کے مزید پھیلاؤ کو روکا جائے تاکہ امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔
عدالت نے تمام فریقین کو دو ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔






