اٹلی کی وزیراعظم کیخلاف عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ دائر

0
210

بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اٹلی کی وزیر اعظم جیورجیا میلونی کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جس میں الزام ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کو مہلک ہتھیار فراہم کر کے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں معاونت کی۔

مقدمے میں اٹلی کے وزیر دفاع گوئیڈو کروسیٹو، وزیر خارجہ انتونیو تاجانی اور اسلحہ ساز کمپنی لیونارڈو کے سربراہ روبرتو چنگولانی کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ شکایت کنندگان نے بین الاقوامی عدالت سے اٹلی کے خلاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اطالوی حکومت کا موقف ہے کہ ہتھیار غزہ جنگ سے قبل طے شدہ معاہدوں کے تحت فراہم کیے گئے اور اسرائیل نے شہریوں کے خلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق 2020 سے 2024 کے دوران اٹلی نے اسرائیل کو بڑی تعداد میں ہتھیار فراہم کیے، جن میں ہیلی کاپٹر، بحری توپیں اور ایف-35 طیاروں کے پرزے شامل ہیں۔

اس مقدمے کے اندراج کے بعد اٹلی میں وزیراعظم میلونی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے، جس میں انہیں “نسل کشی کی معاون” قرار دیا گیا۔ یہ معاملہ اٹلی کی حکومت کے لیے قانونی، سفارتی اور عوامی دباؤ بڑھانے والا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا