امن کا عالمی نوبیل انعام، کیا ٹرمپ کی خواہش پوری ہوگی؟ فیصلہ کل

0
175

ناروے کے شہر اوسلو میں نوبیل امن انعام 2025 کے فاتح کا اعلان جمعہ کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے کیا جائے گا۔

اس سال یہ اعلان دنیا بھر میں جاری تنازعات اور انسانی بحرانوں کے پیش نظر غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ کمیٹی عالمی سطح پر ایک مضبوط پیغام دینے والا انتخاب کر سکتی ہے۔

نوبیل امن انعام کے لیے نامزدگیاں خفیہ رکھی جاتی ہیں اور چند ہزار افراد ہی نامزدگی کے اہل ہوتے ہیں، جن میں قومی اسمبلی اور حکومت کے اراکین، بین الاقوامی عدالتوں کے جج، یونیورسٹی پروفیسرز، تحقیقی اداروں کے ڈائریکٹرز اور سابق نوبیل انعام یافتہ شامل ہیں۔

سال 2025 کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام سب سے زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے، جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اب تک آٹھ جنگیں ختم کر چکے ہیں، جن میں غزہ، ایران-اسرائیل، پاکستان-بھارت، روانڈا-کانگو اور آرمینیا-آذربائیجان شامل ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی یکطرفہ خارجہ پالیسیاں اور بین الاقوامی اداروں سے دستبرداری نوبیل امن کے اصولوں کے خلاف ہیں، جبکہ سویڈش پروفیسر پیٹر والن اسٹین کے مطابق ممکن ہے اگلے سال انہیں یہ انعام ملے، اس سال نہیں۔

سال 2025 کے لیے نوبیل کمیٹی کو 338 نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں، جن میں 244 شخصیات اور 94 تنظیمیں شامل ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا