کابل : افغان طالبان نے حزبِ اسلامی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار کو بیرونِ ملک سفر سے روک دیا ہے۔ گلبدین حکمت یار کے بیٹے حبیب الرحمان حکمت یار کے مطابق طالبان حکومت نے ان کے والد کو سفر کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
حبیب الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دعویٰ کیا کہ طالبان نہ صرف گلبدین حکمت یار کی عوامی ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں بلکہ انہیں ان ملاقاتوں سے خوف بھی محسوس ہوتا ہے اور انہیں خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان بظاہر سیاسی رہنماؤں کو واپسی کی دعوت دیتے ہیں اور سلامتی کی یقین دہانی کراتے ہیں، مگر میرے والد کے بیرونِ ملک سفر پر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا طالبان کا مقصد یہ ہے کہ تمام رہنما واپس آئیں تاکہ ان کی ملاقاتوں، سرگرمیوں اور سفر پر پابندیاں لگائی جا سکیں؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت نے گزشتہ چار برسوں سے سیاسی شخصیات، سابق حکومتی عہدے داروں اور قبائلی عمائدین پر سخت قدغنیں لگا رکھی ہیں، اور ان میں سے بیشتر کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔





