سابق سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی انتقال کر گئے، صدر اور وزیراعظم کا اظہارِ افسوس

0
265

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی طویل علالت کے بعد کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔

گزشتہ ماہ انہیں عارضۂ قلب لاحق ہوا تھا جس کے باعث انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

سیاسی و ذاتی پس منظر

1953 میں گڑھی یاسین کے ایک پشتون خاندان میں پیدا ہونے والے آغا سراج درانی نے 1971 میں سینٹ پیٹرک ہائی اسکول کراچی سے میٹرک کیا، بی کام کیا اور سندھ مسلم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔

1980 کی دہائی میں امریکا میں کاروبار سے وابستہ رہے، وطن واپسی کے بعد 1985 میں پہلی بار الیکشن لڑا لیکن کامیابی نہ ملی۔ 1988 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

1990 میں نواز شریف کی حکومت کے دوران کرپشن کے الزامات پر کچھ عرصہ جیل بھی کاٹی۔ وہ 40 سال سے زائد عرصے تک پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔ وہ تین بار صوبائی وزیر رہے جبکہ 2013 سے 2024 تک دو مرتبہ سندھ اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر فائز رہے۔ مارچ 2022 سے اکتوبر 2022 تک قائم مقام گورنر سندھ بھی رہے۔

ان کے والد آغا صدرالدین اور چچا آغا بدرالدین بھی سندھ اسمبلی کے سپیکر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آغا سراج درانی، شہید بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔

قومی قیادت کے تعزیتی پیغامات

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مرحوم نے جمہوری اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے درجات کی بلندی کی دعا کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آغا سراج درانی نے بطور سپیکر سندھ اسمبلی اہم خدمات سرانجام دیں۔ ان کی سیاسی و عوامی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آغا سراج درانی پارٹی کے مخلص، وفادار اور اصول پسند رہنما تھے جنہوں نے جمہوریت اور سندھ اسمبلی کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا