عمران خان نے مرید کے واقعے پر احتجاج کی کال دیدی

0
553

راولپنڈی میں اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مریدکے واقعے پر جمعہ کو پشاور میں احتجاج کی کال دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور اس میں آئی جی اسلام آباد اور محسن نقوی کو بھی شامل کیا جائے۔

توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران علیمہ خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن نورین نیازی نے بتایا کہ عمران خان نے لاہور میں ہونے والے قتل عام کی مذمت کی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں چار بڑے سانحات پیش آئے جن میں 9 مئی، 26 نومبر، کشمیر واقعہ اور حالیہ لاہور مریدکے کا سانحہ شامل ہے۔

نورین نیازی کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ اپنی فوج، پولیس اور رینجرز ہی عوام پر طاقت استعمال کر رہی ہیں، اس لیے آئی جی اسلام آباد اور محسن نقوی کے خلاف تحقیقات ہونی چاہییں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں جمعہ کے روز احتجاج کی کال بھی دی ہے اور مطالبہ کیا کہ ان واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں عوام غیر محفوظ ہوچکے ہیں اور تمام طبقات کو ملک کے لیے آواز اٹھانا چاہیے۔ عمران خان نے افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان تین نسلوں سے یہاں مقیم تھے اور اب انہیں واپس بھیجا جارہا ہے، جبکہ ڈکٹیٹرز امن نہیں لاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں پیرول پر رہا کیا جائے تو وہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرکے مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نورین کے مطابق عمران خان کا کہنا ہے کہ امن کا راستہ صرف سیاسی استحکام اور بات چیت سے ہوکر گزرتا ہے۔

اس موقع پر علیمہ خان نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں ان کے وکلا نے آج دلائل دیے اور عدالت سے پیر کی تاریخ مانگی تھی، تاہم عدالت نے سماعت کل کے لیے مقرر کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی بے گناہ ثابت ہوچکے ہیں اور لگتا ہے کہ جج اب فیصلے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

علیمہ خان نے مزید بتایا کہ 22 نومبر 2024 کو بانی پی ٹی آئی کا احتجاجی پیغام پہنچانے پر ان پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے، جس پر نہ ان کے دستخط ہیں نہ انگوٹھا، اور وہ عدالت سے اس پر نظرثانی کی درخواست کریں گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا