پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی، سمری وفاق کو ارسال

0
496

لاہور — وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی ہے اور اس حوالے سے سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے کسی مسجد یا مدرسے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتیں ماضی میں سیاسی عمل کا حصہ رہی ہیں، لیکن مذہب کے نام پر اپنی سوچ مسلط کرنا قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی گروہ کو سڑکیں بند کرنے، انتشار پھیلانے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ایک مذہبی جماعت کے احتجاج نے خونی شکل اختیار کی اور اس بار بھی احتجاج غزہ کے نام پر ایسے وقت میں بلایا گیا جب جنگ بندی ہو چکی تھی۔ ان کے مطابق شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر نے غزہ جنگ بندی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف عام شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں، جن میں کسان کارڈ، 90 ہزار گھروں کی تعمیر اور دیگر فلاحی منصوبے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں، نہ کسی پر الزام لگا کر قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ مذہب کی آڑ میں جائیدادیں بنانا قابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات میں ٹی ایل پی نے کوئی دینی مطالبہ نہیں کیا بلکہ ذاتی مفادات کی بات کی۔

عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ آج نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی کال کے باوجود پنجاب کے بازار مکمل طور پر کھلے رہے اور عوام نے اس کال کو رد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 1648 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 50 سے زائد مستقل طور پر معذور ہو گئے۔ 97 پولیس گاڑیاں تباہ اور 2 کو آگ لگا دی گئی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں اسلحہ کے نئے لائسنس جاری کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے، اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو ایک ماہ کے اندر اسلحہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بصورتِ دیگر دہشت گردی کی دفعات کے تحت کارروائی ہوگی۔ قانونی اسلحے کی بھی لازمی رجسٹریشن ہوگی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ مذہبی نہیں بلکہ انتہا پسند جماعت ہے، اور اس کے تمام بینک اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سیل کیے جا رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر 400 لاشیں گرنے کے ذکر پر بھی پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے فیصلے کسی مذہبی عقیدے کے خلاف نہیں بلکہ تشدد پسند عناصر کے خلاف کئے ہیں۔ اب لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور خطبات کے لیے استعمال ہوگا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا