وفاق گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار 200 روپے فی من مقرر کرے:سندھ حکومت کا مطالبہ

0
336

کراچی: سندھ حکومت نے وفاق سے ملکی سطح پر گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر زراعت سندھ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث صوبائی حکومتیں وفاق کی ہدایت کے بغیر کسانوں کو امدادی قیمت نہیں دے سکتیں، اور امدادی قیمت مقرر نہ ہونے کی وجہ سے کسان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر کسانوں کو مناسب قیمت نہ ملی تو وہ گندم کی کاشت چھوڑ کر دیگر فصلوں کی طرف جا سکتے ہیں، جس سے ملک میں غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاق کم از کم گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار 200 روپے فی من مقرر کرے۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی بھی گندم کی امدادی قیمت کے تعین کا مطالبہ کر چکی ہے۔

وزیر زراعت نے بتایا کہ سندھ نے کسانوں کے لیے گندم اگاؤ سپورٹ پروگرام کے تحت 56 ارب روپے کا امدادی پیکیج متعارف کرایا ہے، جس کے تحت کسانوں کو یوریا اور ڈی اے پی کھاد خریدنے کے لیے فی ایکڑ 24 ہزار 700 روپے سبسڈی دی جائے گی۔ یہ سہولت ایک سے 25 ایکڑ زمین والے 4 لاکھ 11 ہزار کاشت کاروں کو فراہم کی جائے گی، اور اب تک ایک لاکھ 32 ہزار 601 کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ مزید رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہاری کارڈ اسکیم کے تحت ہاریوں کے لیے 8 ارب روپے بھی الگ مختص کیے گئے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا