کراچی(طلوع نیوز)کراچی میں ایک ہفتے کے دوران نگلیریا نے خاتون سمیت 3 افراد کی جان لے لی۔
کراچی میں دماغ کو کھا جانیوالا امیبا نیگلیریا مزید 3 افراد جانیں نگل گیا، مرنیوالوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔
ڈائریکٹر محکمہ صحت سندھ کے مطابق ایک ہفتے میں مزید دو افراد نیگلیریا کے باعث انتقال کر گئے، مرنیوالوں میں قیوم آباد کی 32 سالہ گلشن بیگم اور سرجانی ٹاؤن کا 45 سالہ آصف شامل ہیں۔
ڈاکٹر عبدالحمید جمانی کا کہنا ہے کہ کراچی میں رواں برس نگلیریا سے 2 اموات ہوئی ہیں، جبکہ شہر قائد میں گزشتہ سال نیگلیریا سے 5 اموات ہوئی تھیں۔
ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق خاتون قیوم آباد کورنگی کی رہائشی تھیں جو گلشن اقبال میں واقع نجی اسپتال میں اپنی والدہ کی تیمارداری کررہی تھی، انہوں نے اسپتال میں وضو کیا جس کے بعد شام کو طبیعت خراب ہوگئی، خاتون کو جناح اسپتال لے جایا گیا جہاں نگلیریا کی تصدیق ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق نگلیریا سے دوسری ہلاکت 26 مئی کو 45 سالہ شخص کی ہوئی متعلقہ شخص سرجانی ٹاؤن کا رہائشی ہے، نگلیریا سے انتقال کرجانے والا شخص رینجرز کا اہلکار ہے جو پی این ایس شفاء میں زیر علاج تھا۔
نیگلیریا سے جاں بحق تیسرا شخص صدر کا رہائشی 19 سالہ نوجوان تھا، نیگلیریا سے متاثرہ نوجوان سر درد، الٹی اور بخار کی علامات کے ساتھ 27 مئی کو اسپتال لایا گیا تھا، جس کا انتقال 28 مئی کو ہوا۔
کراچی میں ایک ہفتے کے دوران نیگلیریا سے 3 اموات پر محکمہ صحت سندھ نے بلدیاتی اداروں سے رابطہ کرلیا۔ شہر میں پانی فراہم کرنیوالے چینلز میں کلورین کی مقررہ مقدار شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ نیگلیریا فاؤلیری دماغ کھانے والا جرثومہ ہے جو کلورین کے ذریعے ختم ہوسکتا ہے، شہریوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ گھروں میں استعمال ہونیوالے پانی میں کلورین ٹیبلیٹس شامل کی جائیں۔
سندھ میں 2011ء میں نیگلیریا سے ایک، 2012ء میں 9، 2013ء میں 3، 2014ء میں 14، 2015ء میں 12، 2016ء میں 3، 2017ء میں 6، 2018ء میں 7، 2019ء میں 15، 2020ء میں 8، 2021ء میں 7 اور 2022ء میں 5 اموات رپورٹ ہوئیں۔
سندھ میں نیگلیریا کا مرض منظر عام پر آنے کے بعد سے اب تک 90 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں، جن میں سے 86 متوفین کا تعلق کراچی سے تھا۔
طبی ماہرین کے مطابق نیگلیریا کو برین ایٹنگ امیبا یعنی دماغ خور جرثومہ بھی کہتے ہیں اور اس کا شکار ہونیوالے 98 فیصد افراد انتقال کرجاتے ہیں۔






