افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کی سرپرستی ختم کرنے پر اتفاق کیا، خواجہ آصف

0
109

وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی کی سرپرستی ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات نئی بات نہیں، 25 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں مزید نکات پر بات چیت ہوگی، اور اسی دوران معاہدے کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اگر طالبان رجیم نے ٹی ٹی پی یا خوراج کی پشت پناہی جاری رکھی تو یہ افسوسناک ہوگا، اور پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر نظرثانی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ مستقل حل چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ استنبول مذاکرات میں تمام معاملات زیر بحث آئیں گے، اور اگر پیش رفت ہوئی تو یہ مثبت بات ہوگی، تاہم معاہدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ حالات فوراً معمول پر آ جائیں گے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہوگا اور امکان ہے کہ مذاکرات 25 سے 27 اکتوبر تک ترکیہ میں جاری رہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہے، اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔ دہشت گرد وہاں عام شہریوں میں چھپتے ہیں اور انہیں اندر سے ہدایات ملتی ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق ایک صفحے پر مشتمل چار پیراگراف کا مختصر معاہدہ تیار کیا گیا ہے تاکہ افغان طالبان بعد میں یہ مؤقف نہ اپنائیں کہ کچھ علاقوں کے لوگ اسے نہیں مانتے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا