امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیرِ برائے مشرق وسطیٰ جیرڈ کُشنر نائب صدر کے ہمراہ اسرائیل اور غزہ کے دورے پر پہنچ گئے، جہاں انھوں نے تباہ شدہ علاقوں کا معائنہ کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جیرڈ کشنر نے غزہ میں تباہی کے مناظر دیکھ کر کہا کہ “یہاں کا حال دیکھ کر لگتا ہے جیسے ایٹم بم گرایا گیا ہو۔”
انھوں نے نیتن یاہو حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل مشرق وسطیٰ کے عظیم اتحاد کا حصہ بننا چاہتا ہے تو اسے فلسطینیوں کو ترقی کے مساوی مواقع دینا ہوں گے۔
کشنر نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی قافلے کے ساتھ غزہ کے دورے کے دوران انھوں نے پوچھا کہ فلسطینی کہاں جا رہے ہیں؟ فوجیوں نے جواب دیا کہ “وہ اپنے ملبے کے گھروں کی طرف جا رہے ہیں۔”
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں فلسطینی اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے پر ٹینٹ لگا کر رہنے پر مجبور ہیں۔
جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ نسل کشی نہیں؟ تو کشنر نے کہا “نہیں، یہ نسل کشی نہیں”، تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران بچوں کا قتل عام ہوا ہے۔






