تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ، 18 مزدور اغوا

0
326

کوئٹہ:بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر کے 18 مزدوروں کو اغوا کر لیا، جبکہ متعدد گاڑیوں اور مشینری کو آگ لگا دی۔

یہ واقعہ صوبے میں ایک ہفتے کے دوران مزدوروں کے اغوا کا دوسرا بڑا واقعہ ہے، جس سے علاقے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق حملہ جمعرات کی رات نال کے علاقے کلیڑی میں پیش آیا، جہاں درجنوں مسلح افراد نے شاہراہ بلاک کر کے ایک نجی کمپنی کے کرش پلانٹ پر دھاوا بولا۔ کمپنی خضدار کو ضلع واشک کے علاقے بسیمہ سے ملانے والی سڑک کی تعمیر پر کام کر رہی تھی۔

لیویز انچارج علی اکبر کے مطابق حملہ آوروں نے کیمپ اور مشینری کو آگ لگا دی، کم از کم آٹھ گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور مزدوروں کو زبردستی ساتھ لے گئے، جن میں سے بیشتر کا تعلق سندھ سے ہے۔

تعمیراتی کمپنی ڈی بلوج کے منیجر ذوالفقار احمد نے بتایا کہ ابتدا میں 20 مزدور اغوا ہوئے، تاہم دو کو چھوڑ دیا گیا، 18 مزدور تاحال لاپتہ ہیں۔

واقعے کے بعد لیویز، ایف سی اور سی ٹی ڈی نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا، مگر اب تک کسی بھی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

حکام کے مطابق اس علاقے میں ماضی میں بھی مسلح بلوچ تنظیمیں تعمیراتی کمپنیوں اور مزدوروں پر حملے کرتی رہی ہیں۔ چند روز قبل مستونگ میں بھی 9 مزدوروں کے اغوا کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد ایک ہفتے میں اغوا شدہ مزدوروں کی تعداد 27 ہو چکی ہے۔

حکومت بلوچستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مجرموں کو جلد گرفتار کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات صوبے کی ترقیاتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے کی سازش ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا