لاہور(طلوع نیوز)وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عرفان قادرنے کہا ہے کہ ایک سیاسی دھڑا ریاست اور اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف ہے،پورے ملک میں الیکشن ایک ساتھ ہوں گے،سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار ہے لیکن قانون سازی کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں، پارلیمان ریاست ہے، عدلیہ نہیں،تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے،حکومت کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔۔ تفصیلات کے مطابق عرفان قادر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار ہے۔انھوں نے کہا کہ آئین سے متصادم قانون سازی عدالت میں چیلنج ہوتی ہے، 184 تھری کا قانون بھی عدالت میں چیلنج کردیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کہتی ہے پارلیمان قانون سازی سے پہلے ہم سے مشورہ کرے،قانون سازی کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں۔کل حکومت اور پارلیمنٹ بھی کہہ سکتی ہے کہ فیصلہ دینے سے پہلے ہم سے پوچھ لیا کریں۔ انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدلیہ کو کمزور نہیں کرنا چاہتے،عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہم مخصوص ہم خیال گروپ کے ساتھ نہیں جو خود عدلیہ کے ساتھ بھی نہیں۔ریاست سب سے اوپر ہے اور پھر تمام ادارے آتے ہیں،یہ نہ سمجھا جائے کہ ریاست کمزور ہے۔ عرفان قادر کا مزید کہنا تھا کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ہم عدالتوں میں کیسز کے دوران اٹارنی جنرل صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں اسے حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ہم سب کی پہلی ذمہ داری ریاست کے ساتھ وفادار رہنا ہے،ریاستی اداورں کیخلاف منظم مہم جاری ہے،کوئی شخص اور ادارہ آئین سے بڑا ہے۔ پارلیمان ریاست ہے، عدلیہ نہیں، عدلیہ میں کچھ لوگ خود کو ریاست سے اوپر سمجھتے ہیں لیکن ریاست سب سے اوپر ہے اور پھر آئین ہے۔ توہین تو پاکستان کے آئین کی ہورہی ہے،وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان قادر کا کہنا ہے کہ جج صاحبان اپنی سوچ کو بدل کر ریاست اور آئین میں ڈھالیں ہم عدلیہ کے نہیں ہم خیال گروپ کے خلاف ہیں۔عرفان قادر کا کہنا تھا کہ مخصوص لوگ ریاست اوراداروں میں مداخلت کررہے ہیں، چند ہم خیال ججز ایک سیاسی دھڑے کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں وہ ریاست سے بھی بالاترہیں۔
الرئيسية Uncategorized پارلیمان ریاست ہےعدلیہ نہیں،اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے،عرفان...






