استنبول میں پاکستان–افغان طالبان مذاکرات بے نتیجہ، ڈیڈلاک برقرار

0
324

استنبول: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تین روز سے جاری مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور ثالث ممالک کی جانب سے دوبارہ بات چیت کی کوششیں جاری ہیں۔

ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات کا تیسرا دور بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ ہفتے کو شروع ہونے والے یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی امن کے قیام کے لیے منعقد کیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اپنے منطقی اور جائز مطالبات پر قائم ہے، تاہم افغان طالبان کا وفد ان مطالبات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ میزبان ممالک نے بھی افغان وفد کو باور کرایا کہ پاکستان کے مطالبات معقول اور امن کے لیے ناگزیر ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کا وفد بار بار کابل انتظامیہ سے رابطے میں ہے اور انہی کے احکامات کے مطابق فیصلے کر رہا ہے، تاہم کابل سے کوئی حوصلہ افزا جواب موصول نہیں ہو رہا، جس کے باعث مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کابل میں موجود بعض عناصر کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ مذاکراتی نکات پر عمل درآمد دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ یاد رہے کہ مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں ہوا تھا، جہاں فریقین نے سیز فائر پر اتفاق کیا تھا، جب کہ دوسرا دور چند روز قبل استنبول میں ہوا تھا جس میں پہلے دور کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغان حکام کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع پلان پیش کیا تھا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ افغان طالبان کے پاس دو ہی راستے ہیں — یا امن کے ساتھ رہیں یا پھر پاکستان کے ساتھ کھلی جنگ کے لیے تیار ہوں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا