سیلاب کے باعث پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی:عالمی بینک

0
267

اسلام آباد: عالمی بینک نے اپنی پاکستان ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025 میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ برس کے سیلابوں کے اثرات کے باعث پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیلاب نے ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا۔ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جب کہ آئندہ مالی سال میں یہ 6.8 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں برآمدات بڑھانے کے لیے صرف ٹیرف اصلاحات کافی نہیں ہوں گی، حکومت کو اپنے ترقیاتی ایجنڈے میں برآمدات کے فروغ کو ترجیح دینا ہوگی۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ترسیلات زر میں اضافہ برآمدات اور درآمدات کے درمیان خلیج کو کم کر سکتا ہے۔

ادارہ نے زور دیا کہ پاکستان بجٹ میں اعلان کردہ نیشنل ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائے تاکہ معاشی توازن برقرار رکھا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی پیداوار 2025 میں 3 فیصد تک بڑھی، جب کہ گزشتہ سال شرح نمو 2.6 فیصد رہی تھی۔ 2026 میں بھی شرح نمو 3 فیصد، اور 2027 میں 3.4 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ صنعت اور خدمات کے شعبے میں بہتری آئی ہے، تاہم زرعی پیداوار دباؤ کا شکار رہی۔ مالی نظم و ضبط کے باعث مہنگائی کسی حد تک قابو میں رہی۔

رپورٹ میں حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد جاری رکھے، ٹیکس دہندگان کا دائرہ بڑھائے، سرکاری اداروں میں اصلاحات کرے اور نجکاری کے عمل کو آگے بڑھائے۔

عالمی بینک کے مطابق ہر سال تقریباً 16 لاکھ نوجوان روزگار کے حصول کے لیے مارکیٹ میں آ رہے ہیں۔ رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد اور غربت کی شرح 21.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غربت میں کمی، معیارِ زندگی میں بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول ناگزیر ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا