’’بھاری رشوت لی گئی‘‘ ڈکی بھائی کی اہلیہ کی شکایت پر سائبر کرائم افسران گرفتار

0
901

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مشہور یوٹیوبر سعد الرحمن المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اپنے ہی محکمے کے افسران کے خلاف مقدمہ درج کر دیا اور گرفتاریوں کا آغاز کر دیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سرفراز چوہدری سمیت چار ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایف آئی اے انسداد بدعنوانی سرکل لاہور میں درج کی گئی ایف آئی آر میں شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ بعض افسران نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں کیں اور نجی نوعیت کی معلومات کو غلط استعمال کیا۔

ابتدائی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈکی بھائی کے مقدمے کے تفتیشی اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض نے ملزم کو ریلیف دینے کے لیے 90 لاکھ روپے رشوت لی، جو نقد اور چیک کی صورت میں مختلف افسران میں تقسیم کی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق تفتیشی نے ڈکی بھائی سے 3 لاکھ 26 ہزار سے زائد ڈالر اپنے بائنینس اکاؤنٹ میں الگ سے منتقل کیے۔

شکایت کنندہ کے مطابق لاہور نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسران ایک گینگ کی شکل میں کال سینٹرز اور دیگر غیر قانونی معاملات میں رشوت وصول کرتے تھے، اور اسلام آباد میں نیشنل کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں یہ رقم افسران بالا تک پہنچائی جاتی تھی، جسے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان وصول کرتے تھے۔

ایف آئی آر میں بعض اہلکاروں پر رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ ایف آئی آر ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جنوئی کی درخواست پر درج کی گئی۔

خیال رہے کہ یوٹیوبر ڈکی بھائی کو 16 اگست کو آن لائن جوا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا