لاہور — سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ اگر خطے میں کسی نے بدمعاشی ثابت کی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسمبلی فورمز کو احتجاج کا گڑھ بنا دیا گیا ہے اور کہا کہ بعض معاملات پر اتفاق ضروری ہے تاکہ سیاست کو ایک راستہ ملے۔ ملک احمد خان نے وزیرِ اعظم کی بات چیت کے دروازے کھولنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت ہی واحد حل ہے اور پاکستان امن اور معاشی ترقی چاہتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی دہشت گردی کے شواہد دنیا کے سامنے رکھے گئے ہیں اور پاکستان نے سفارتی و انٹیلیجنس دونوں شعبوں میں برتری ثابت کی ہے۔ سپیکر نے کہا کہ بھارت بلوچستان میں پیسے دے کر عناصر کو خرید کر پاکستان میں دہشت گردی کرواتا ہے اور پراکسی کے ذریعے دخل اندازی کرتا ہے۔ انہوں نے کلبھوشن اور جہلم سے گرفتار جاسوسوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ پہلگام واقعے کے سلسلے میں شواہد پیش نہ کیے جانے سے الزامات کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔
ملک احمد خان نے کہا کہ مودی کی پالیسی نے جنگی ماحول پیدا کیا، لیکن خطے کو مل کر پرامن بنانا ہمارا مقصد ہے۔ اگر کوئی خطے میں جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے تو پاکستان بھرپور جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاک افغان مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور زور دیا کہ پراکسی وار کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔
مزید برآں سپیکر نے کہا کہ ٹی ایل پی پر پابندی کا اقدام درست ہے اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے بات چیت سے اجتناب کرنا چاہیے؛ بات چیت صرف اُن سے کی جانی چاہیے جو مذاکرات کو سمجھتے اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔






