چھبیسویں ترمیم قبول نہیں کی، ستائیسویں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: حامد خان

0
320

راولپنڈی: میڈیا سے گفتگو میں حامد خان نے کہا کہ جب چھبیسویں آئینی ترمیم قبول ہی نہیں کی گئی تو 27ویں ترمیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں اس سب کے پیچھے کون ہے، باقی سب صرف کھلونے ہیں۔ ان کے مطابق جس کے پاس طاقت ہوتی ہے، بات اسی کی چلتی ہے۔

حامد خان نے آزاد کشمیر میں فائرنگ کے واقعات کو زیادتی قرار دیا اور کہا کہ وہاں حکومت کی تبدیلی کے پیچھے کیا مقصد ہے، یہ بھی سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں جماعتوں کو بٹھا کر کہا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم منظور کریں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ شاہ محمود قریشی سے ملے وہ سب بھاگے ہوئے بھگوڑے ہیں۔ پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والوں کو پارٹی پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں، یہ سب غدار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔

حامد خان نے کہا کہ چھبیسویں ترمیم واپس لی جائے اور ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے تو راستہ خود نکل آئے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی ڈیل کی خواہش مند نہیں بلکہ عدالتی نظام سے ریلیف چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بے بسی کے باعث چھبیسویں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالتوں سے زیادہ امید نہیں، تاہم کوشش جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے معاملے پر اصولی بات ہر کسی سے ہو سکتی ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے قبل مولانا فضل الرحمن سے بھی بات ہوئی تھی، اور جو بھی ستائیسویں ترمیم کی مخالفت کرے گا، ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا