ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کا 27ویں آئینی ترمیم پر موقف، عدالتی نظام میں بہتری پر زور

0
442

اسلام آباد — متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پر حکومت سے ہم نے خود رابطہ کیا۔ حکومت سمجھتی ہے کہ آئینی ترمیم سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی مگر وقت کا تقاضا ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

اسلام آباد میں ایم کیو ایم رہنماؤں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور امین الحق نے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے وقت ایم کیو ایم نے ایک مطالبہ رکھا تھا کہ ایسی جمہوریت ہو جس کے ثمرات عوام تک پہنچیں، اس کا اہتمام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چھبیسویں ترمیم میں کوئی اضافی بات نہیں کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایوان عام پاکستانیوں کے لیے قانون سازی کرنے کے لیے ہے، اور ستائیسویں آئینی ترمیم پر خود حکومت سے رابطہ کیا گیا، جبکہ وفد نے وزیر اعظم سے بھی ملاقات کی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اب ایک الگ آئینی عدالت کے قیام کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، کیونکہ آئینی مقدمات دس فیصد ہیں لیکن پچاس فیصد وقت مانگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کو صوبوں کے حوالے کرنے سے نتائج الٹے نظر آ رہے ہیں، اس لیے اب غور کیا جا رہا ہے کہ تعلیم کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں اور ایم کیو ایم کی رائے ہے کہ بہبود آبادی کا محکمہ وفاق کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ آئینی ترمیم سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی اور وقت کا تقاضا ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، کیونکہ پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے ساتھ تعلیم کو تقسیم کیا گیا مگر یکساں مواقع نہیں ملے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ بلدیاتی حکومت کے نتائج عوام تک پہنچیں اور آئین صوبائی حکومت کے حوالے سے بھی فیصلہ کرے، جس کے بعد نوے دن کے اندر انتخابات ہوں اور اختیارات دوسرے ناظم تک منتقل کیے جائیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم میں ایم کیو ایم نے کہا تھا کہ ہمارے مسودے کو آئینی ترمیم کے ساتھ جوڑا جائے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ وفاقی وزیر قانون نے یقین دلایا تھا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی نے 140 اے پر اتفاق رائے کیا اور کہا کہ یہ ناگزیر ہے، اور پنجاب اسمبلی کا یہ اقدام ایم کیو ایم کی بات کو سپورٹ کرتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا