اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانے اور قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت چیئرمین پی ٹی آئی نے کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بھی شرکت کی اور ارکان نے ان کا خیرمقدم کیا۔
اجلاس میں سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات، 27ویں آئینی ترمیم اور دیگر سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔ پی ٹی آئی ارکان نے قرارداد پر دستخط بھی کر دیے۔
میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ عدالت کے حکم کے باوجود انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات ان کا حق ہے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اسے این ایف سی شیئر سمیت اس کے جائز حقوق ملنے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور جمہوریت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔






