اسلام آباد : نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری اطلاعات احمد جواد کو پیکا قانون کے تحت جی-13 اسلام آباد سے گرفتار کر لیا۔ احمد جواد کی ضمانت قبل از گرفتاری عدالت نے مسترد کر دی تھی جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔
قبل ازیں پاک بھارت جنگ کے دوران متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ احمد جواد کی جانب سے ایسی پوسٹس شیئر کی گئیں جو ریاست اور اداروں کے خلاف تھیں۔ ایف آئی آر میں مؤقف تھا کہ ان پوسٹس سے خوف و ہراس پھیل سکتا تھا۔
دورانِ سماعت وکیل صفائی نے مؤقف اپنایا کہ احمد جواد کو انکوائری کے لیے طلب نہیں کیا گیا اور ان کی ٹویٹس میں کسی شخص کا نام نہیں لیا گیا، اس لیے ہتکِ عزت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ وکیل نے مزید کہا کہ شکایت کنندہ کی حیثیت بھی واضح نہیں۔
پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ پیکا قانون کے تحت درخواست گزار کوئی بھی شہری ہو سکتا ہے۔ دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کر دی جس کے بعد احمد جواد کو حراست میں لے لیا گیا۔






