اردن کی ملکہ رانیہ نے جرمنی میں ون ینگ ورلڈ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جنگ پر اسرائیلی حکام کی استعمال ہونے والی زبان نازی دور کے پروپیگنڈا سے مشابہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نفرت پر مبنی بیانیے اکثر نسل کشی کی طرف لے جاتے ہیں، جیسا کہ جرمنی، روانڈا اور میانمار کی تاریخ میں دیکھا گیا۔
ملکہ رانیہ نے اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یواف گالانٹ کے اس بیان پر بھی شدید تنقید کی جس میں انہوں نے غزہ کے عوام کو “انسانی جانور” قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں کو جانوروں سے تشبیہ دینا تشدد کو جائز قرار دینے کا پرانا طریقہ ہے اور اسی زبان کو عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمے میں بطور ثبوت پیش کیا جا رہا ہے۔
ملکہ رانیہ کے مطابق غزہ میں اب تک 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ علاقہ تباہی کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ سمیت کئی آزاد ادارے قحط اور نسل کشی کی تصدیق کر چکے ہیں لیکن عالمی برادری خاموش ہے۔ انہوں نے یورپ میں بڑھتی ہوئی اسلام مخالف اور فلسطین مخالف نفرت انگیزی کو بھی نازی طرز کے بیانیے سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے انسانیت کے لیے خطرناک قرار دیا۔






