تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امن چاہتا ہے مگر اسے جوہری اور میزائل پروگرام چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ رائٹرز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران عالمی اصولوں کے تحت مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن ایسے مطالبات قبول نہیں کیے جائیں گے جن میں ایران کو دفاعی ٹیکنالوجی ترک کرنے کا کہا جائے۔
ایرانی صدر نے الزام لگایا کہ مغربی طاقتیں اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتی ہیں اور دوسری جانب ایران کو دفاعی میزائل نہ رکھنے کی شرط عائد کرتی ہیں، جو کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت خطے میں موجود حقیقی خطرات کے مقابلے کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پابندیاں ختم کرنے کے لیے رابطے کر رہا ہے، تاہم تہران واضح کر چکا ہے کہ دفاعی اور جوہری معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان رواں سال 12 روزہ ایران–اسرائیل جنگ کے بعد جوہری مذاکرات کے پانچ دور ہو چکے ہیں، مگر اب تک کسی اہم پیشرفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام دفاعی ضرورت ہے، جبکہ اسرائیل اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔






