پشاور میں خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع کے امن جرگے نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیہ میں صوبائی اسمبلی میں منظور شدہ امن و امان کے قوانین پر فوری عمل درآمد کی تاکید کی گئی ہے۔ پولیس اور سی ڈی ٹی داخلی سلامتی کی قیادت کریں گے اور آئینی طور پر دیگر اداروں سے معاونت حاصل کر سکتے ہیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ غیر قانونی محصولات اور بھتہ خوری کے خلاف مربوط پالیسی بنائی جائے تاکہ دہشت گردوں کا معاشی ناطہ ختم ہو۔ بالخصوص شورش زدہ علاقوں میں معدنیات کی غیر قانونی نکاسی روکی جائے اور غیر سرکاری اراکین پر مشتمل صوبائی سطح پر امن فورمز قائم کیے جائیں۔
شہری سطح پر پولیس اور بلدیاتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے سٹی سیل قائم کیے جائیں گے، اور چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لیے مقررہ وقت پر مبنی منصوبے تیار کیے جائیں گے۔
اعلامیہ میں مقامی حکومتوں کے استحکام اور مالی تحفظ کے لیے آئینی ترامیم کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جس میں صوبائی فنانس کمیٹی کو نیشنل فنانس کمیشن سے منسلک کرنا اور وفاق کی جانب سے صوبے کے آئینی مالی حقوق کی فراہمی شامل ہے۔ گیارہویں این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔






