صدر مملکت نے 27ویں آئینی ترمیمی بِل پر دستخط کردیئے

0
566

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے 27ویں آئینی ترمیمی بل پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ ترمیم باضابطہ طور پر آئینِ پاکستان کا حصہ بن گئی ہے۔ یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر کو ارسال کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد سینیٹ سیکرٹریٹ نے آئینی ترمیمی بل 2025 وزارتِ پارلیمانی امور کو بھجوایا۔ بعد ازاں وزارتِ پارلیمانی امور نے اسے توثیق کے لیے صدرِ مملکت کو ارسال کیا، جنہوں نے اس پر دستخط کر دیے۔ اب وزارتِ قانون کی جانب سے ترمیم کا سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

اس سے قبل سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم میں شامل نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم کا نیا متن سینیٹ میں پیش کیا، جسے بعد ازاں شق وار منظوری کے عمل سے گزارا گیا۔

ووٹنگ کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہوئے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) نے ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

ترمیم کے حق میں 64 ووٹ ڈالے گئے جبکہ جے یو آئی ف کے 4 ارکان نے مخالفت کی۔ ایوان میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور بعض نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

27ویں آئینی ترمیم کو ملکی آئینی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت عدلیہ اور دفاعی نظام میں نئے ڈھانچے کی تشکیل شامل ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا