بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور سرکاری فیصلوں پراثر انداز ہوتی تھیں: برطانوی جریدہ

0
220

لندن: برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے ڈیجیٹل میگزین نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی مبینہ طور پر اہم تقرریوں اور بعض سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان کی تیسری شادی نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ طرزِ حکمرانی کے حوالے سے بھی سوالات کو جنم دیا۔ سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشریٰ بی بی بعض اہم معاملات میں مداخلت کرتی تھیں، اور بعض لوگ یہ شکایت کرتے تھے کہ فیصلہ سازی پر روحانی مشاورت کا اثر نمایاں دکھائی دیتا تھا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض مواقع پر وزیراعظم کا سرکاری طیارہ بھی ان کی اجازت کے بغیر اڑان نہیں بھرتا تھا۔

جریدے نے بعض مبصرین کے حوالے سے لکھا کہ ایک حساس ادارے کے چند افراد مبینہ طور پر ایسی معلومات بشریٰ بی بی تک پہنچاتے تھے جنہیں وہ اپنی روحانی بصیرت کے طور پر عمران خان کے سامنے پیش کرتی تھیں۔

رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ عمران خان نے اقتدار کی خواہش میں بشریٰ بی بی سے شادی کی، اور ان کی پیرنی نے دعویٰ کیا تھا کہ شادی کے بعد وہ وزارتِ عظمیٰ تک پہنچ جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی نے سیاست میں دینداری اور روحانی تاثر کو فروغ دیا اور اہم تقرریوں، فیصلوں اور سفر کے اوقات میں بھی مبینہ طور پر انہی مشاورتوں کا اثر شامل رہتا تھا۔

جریدے کے مطابق کچھ ملازمین نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی بعض روحانی اعمال کے لیے گوشت، کلیجی اور کالے جانور کے سر جیسے اجزاء منگوانے کا حکم دیتی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کو مبینہ طور پر ان کی ہدایت پر فارغ کیا گیا، جبکہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بعض “ون آن ون” ملاقاتوں میں بھی بشریٰ بی بی موجود ہوتی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی سے متعلق کرپشن کے الزامات سامنے آنے پر عمران خان نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو عہدے سے ہٹا دیا۔

مزید کہا گیا کہ عمران خان نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھا کر اپنی سیاسی شناخت بنائی، مگر اقتدار میں آنے کے بعد مختلف محاذوں پر مشکلات کا سامنا رہا۔ فوجی قیادت سے اختلافات، پارلیمانی عدم اعتماد، اور بعد ازاں ریاستی تحائف اور دیگر مقدمات میں گرفتاری نے ان کی سیاسی سفر کو نیا رخ دیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا