اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف کی دعوت پر اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ 21 برس بعد اردن کے کسی سربراہِ مملکت کا یہ پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
نور خان ایئربیس پہنچنے پر صدر آصف علی زرداری، وزیرِاعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور وزیرِ مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے شاہ عبداللہ دوم اور ان کے اعلیٰ سطح وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔
اردنی فرمانروا کے طیارے کی پاکستانی فضائی حدود میں آمد پر پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے شاہی طیارے کو اسلام آباد تک حفاظتی حصار فراہم کیا۔
اس تاریخی دورے کو پاکستان اور اردن کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات کی مضبوط عکاسی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ توقع ہے کہ یہ دورہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون میں مزید توسیع کا باعث بنے گا۔
شاہ عبداللہ دوم بعد ازاں وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں انہیں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور شاہ عبداللہ دوم کے درمیان دوطرفہ ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے نئے راستے کھولے گا اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔






