سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اکانومسٹ کی خبر درست اور مستند ہے، یہ کوئی عام جریدہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “زیادہ چالاک آدمی پچھلی عمر میں ایسے ہی خوار ہوتا ہے”، بشریٰ بی بی سیکیورٹی رسک تھیں اور اس پورے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اکانومسٹ کی خبر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بشریٰ بی بی جنرل فیض کے لیے کام کرتی تھیں۔ انہیں جو معلومات دی جاتی تھیں وہ آگے بانی پی ٹی آئی تک پہنچاتی تھیں، جو کچھ روز بعد درست ثابت ہوتی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک لالچی شخص تھا، اور بشریٰ بی بی کے ذریعے اس کا مکمل کنٹرول جنرل فیض اور جنرل باجوہ کے پاس تھا۔ خواجہ آصف کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل عاصم منیر نے بانی پی ٹی آئی کو ایک تحریری بریفنگ بھی دی تھی، جس میں بشریٰ بی بی سے متعلق تمام تفصیلات شامل تھیں، جس پر بانی پی ٹی آئی ناراض ہو گئے اور انہوں نے جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹا دیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کہتے ہیں کہ وہ مقدمہ کریں گے—’’ضرور کریں، اگر نہیں کریں گے تو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ وفاداری مشکوک ہو جائے گی۔‘‘ ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہوا ہے اور ’’اس خاتون کو طاقت کے کھیل کے لیے لانچ کیا گیا‘‘۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی پہلے بھی ایسے چکروں میں پڑے ہوئے تھے اور نارووال میں بھی ایک بابا کے پاس جایا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب توہم پرستی کی اجازت نہیں دیتا، ’’اکانومسٹ نے یہ خبر یونہی نہیں لگائی، ملک میں چار پانچ سال تک ہونے والی لوٹ مار ایک منصوبے کے تحت ہوئی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں خصوصی بنچ بنایا گیا، ججز بیانات دیتے رہے اور آخرکار انہیں نااہل قرار دیا گیا۔ ’’پی ٹی آئی والے اپنے لیڈر کو بہت عقلمند سمجھتے تھے اور اسے ایک عورت نے بیچ ڈالا۔‘‘
خواجہ آصف نے کہا کہ لوٹ مار کے پیسے سے بانی پی ٹی آئی کو حصہ مل جاتا تھا جبکہ باقی رقم گوگی بیرون ملک لے گئی۔ ’’پیرنی کے پاس بھی جو حصہ ہے وہ کہیں نہ کہیں موجود ضرور ہوگا، سب سے بڑے صوبے کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہوا، منتروں اور پھونکوں کے ذریعے وزیراعظم بنایا گیا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’عمران خان آکسفورڈ سے پڑھ کر بھی پیرنی کا مرید بن گیا، شاید پیرنی پڑھی لکھی بھی نہیں، اگر پڑھی ہے تو نوسر بازی میں پی ایچ ڈی کی ہوگی۔‘‘
عدلیہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس بننے کی خواہش تھی۔ کچھ اختلافات پر انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ’’دنیا بھر میں ججوں کے تبادلے ہوتے ہیں، جیسے سول اور فوجی بیوروکریسی میں ہوتے ہیں، تو جج کیوں نہیں ٹرانسفر ہو سکتے؟‘‘
انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے تحت تبادلے جوڈیشری کے نظام نے کرنے ہیں، نہ وزیراعظم اور نہ پارلیمنٹ نے۔ ’’میری تنخواہ چار لاکھ روپے ہے جبکہ جج سولہ لاکھ لیتے ہیں، سہولتیں الگ۔ پھر اتنی ہی پینشن بھی—تو اگر کام زیادہ کرنا پڑ جائے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم عدلیہ کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘





