لاہور میں ایک خصوصی رپورٹ کی شریک مصنفہ بشریٰ تسکین نے بتایا کہ دی اکانومسٹ کی رپورٹ متعدد انٹرویوز اور دستیاب شواہد پر مبنی ہے، لیکن صرف 10 فیصد مواد شائع کیا جا سکا کیونکہ بہت سی باتیں رپورٹ نہیں کی جا سکتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں بھی بشریٰ بی بی کے جادو ٹونے سے متعلق خبریں سامنے آتی رہی ہیں، لیکن تحقیق کے دوران کئی معلومات حیران کن تھیں، خاص طور پر یہ کہ وہ کس طرح روحانیت کے پردے میں رہ کر عمران خان پر اثرانداز ہوئیں۔ ان کے مطابق عمران خان کے سیاسی وعدوں پر عمل درآمد نظر نہیں آیا اور ان کی ناکامی کی بڑی وجہ انتظامی کمزوریاں تھیں، نہ کہ کسی اور ادارے کا کردار۔ پارٹی کے متعدد سینئر اراکین نے بھی اس تاثر کی تصدیق کی۔
بشریٰ تسکین کے مطابق تحقیق کے دوران کالے جادو اور روحانیت جیسے معاملات کو بین الاقوامی آڈینس کو سمجھانا مشکل تھا، مگر مختلف شخصیات سے ملنے والے شواہد نے تصویر واضح کی۔ خاور مانیکا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی انتہائی ذہین تھیں، جب کہ عمران خان کی اپنی ’’پیرنی‘‘ سے شادی نے بھی غیرمعمولی سوالات کو جنم دیا۔
انہوں نے بتایا کہ روحانی رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ روحانیت میں مرید کے ساتھ اس قدر قریبی تعلق غیرروایتی ہے۔ بشریٰ بی بی کے پاس ایسے ذرائع ضرور موجود تھے جو انہیں معلومات فراہم کرتے تھے، لیکن اگر ان کے پاس حقیقی روحانی قوتیں ہوتیں تو ان کی سیاسی و عوامی حیثیت کا انجام مختلف ہوتا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ ایک بڑے ملک کی حکومتی امور، تقرریاں اور روزمرہ فیصلے روحانی مشوروں اور جادو کے تصورات کے تحت کیے جاتے رہے، جو بہت تشویش ناک اور غیرمتوقع بات تھی۔





