وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام کے بعد اب پائیدار اقتصادی ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیاں ملک کے لیے دو بنیادی وجودی خطرات بن چکی ہیں۔
پاپولیشن کونسل کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ ولنرایبلیٹی انڈیکس آف پاکستان کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اہم معاشی اشاریوں میں بہتری سے ملکی معیشت کے درست سمت میں آگے بڑھنے کی تصدیق ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 2.5 فیصد کے قریب ہے جو تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو مجموعی قومی پیداوار میں ہونے والا اضافہ بے معنی ہو جائے گا۔
وزیر خزانہ کے مطابق:
“ہمیں آبادی کے لحاظ سے وسائل کے درست انتظام پر فوری توجہ دینا ہوگی۔”
سینیٹر اورنگزیب نے اس بات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی کہ ملک میں 40 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں جبکہ 50 فیصد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں، جو مستقبل کے لیے سنگین نوعیت کے چیلنجز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے موزونیت (Adaptation) پر بھرپور توجہ درکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ خزانہ ماحولیاتی فنانسنگ اور فنڈز کی دستیابی کے لیے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پہلی بار آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وزرائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت سے انہیں اندازہ ہوا کہ اس مسئلے کو مرکزی دھارے میں لانے میں وزرائے خزانہ کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پسماندہ اور کم ترقی یافتہ اضلاع کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔ دیہی علاقوں سے شہروں کو ہجرت بڑھنے سے کچی آبادیوں میں اضافہ ہوا ہے جہاں پینے کے پانی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے، جس سے بچوں میں سٹنٹنگ اور دیگر مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی ایک دوسرے سے براہ راست منسلک ہیں، اس لیے وسائل کی مؤثر تقسیم اور اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں انہوں نے برطانوی حکومت اور ایف سی ڈی او کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ مختلف شعبوں میں پاکستان کی بھرپور معاونت کر رہا ہے۔






