حکومت ادویات کی فراہمی کا جائزہ لے، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت

0
277

وفاقی آئینی عدالت میں زندگی بچانے والی ادویات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس کی سربراہی چیف جسٹس امین الدین خان نے تین رکنی بینچ کے ہمراہ کی۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ زندگی بچانے والی 41 میں سے 30 ادویات رجسٹرڈ ہو چکی ہیں، مگر متعدد ادویات اب بھی مارکیٹ اور ویب سائٹ پر دستیابی کے حوالے سے واضح نہیں ہیں۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، حکومت ادویات کی فراہمی کا فوری جائزہ لے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے۔

ڈریپ کے وکیل نے مؤقف دیا کہ شوگر سمیت مختلف ادویات کی قیمتیں کنٹرول میں ہیں اور زندگی بچانے والی ادویات سے متعلق معلومات ویب سائٹ پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم درخواست گزار نے ویب سائٹ ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت مانگی۔

آئینی عدالت نے ڈریپ سے ادویات کی دستیابی پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا