غزہ منصوبے پر ٹرمپ کی قرارداد سختی سے مسترد

0
375

حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں پیش کی گئی قرارداد کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق سلامتی کونسل میں آج اس قرارداد پر ووٹنگ ہوگی، جس میں غزہ میں عبوری حکومت کے قیام، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور جنگ بندی سے متعلق نکات شامل ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینیوں کی فیصلہ سازی پر بیرونی قوتوں کے کنٹرول کی راہ ہموار کرے گی اور غزہ کی حکومت، انتظام اور تعمیر نو کو غیر ملکی سرپرستی میں لے جائے گی۔

حماس نے مؤقف اپنایا کہ بین الاقوامی فورس کی تعیناتی دراصل غزہ کو غیر ملکی کنٹرول میں دینے کے مترادف ہوگی اور اس سے فلسطینیوں کی حکمرانی سلب ہو جائے گی۔

مزاحمتی گروپوں نے قرارداد میں غزہ کو غیر مسلح کرنے یا فلسطینیوں سے مزاحمت کا حق چھیننے کی شقوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ انسانی امداد کا مکمل انتظام فلسطینی اداروں اور اقوام متحدہ کے تحت رہنا چاہیے، جبکہ کسی بھی منصوبے میں جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد اور حقیقی امن فورس کا قیام شامل ہونا ضروری ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا