مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے آپریشن جیک پاٹ کے خونی منصوبے بے نقاب

0
339

تاریخ ایک بار پھر اس حقیقت کی تصدیق کر رہی ہے کہ بھارت نے ہمیشہ خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

1971۔

کی جنگ سے قبل بھارت نے مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا، جسے بعد میں “آپریشن جیک پاٹ” کا نام دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق فروری 1971 سے بھارت نے منصوبہ بندی کے تحت دہشت گرد کارروائیاں شروع کیں، اور 15 اگست 1971 کو “آپریشن جیک پاٹ” باقاعدہ طور پر لانچ کیا گیا۔

بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بارڈر سکیورٹی فورس کو ہدایت دی کہ مکتی باہنی کے دہشت گردوں کو پناہ، اسلحہ اور عسکری تربیت فراہم کی جائے۔

تربیت یافتہ دہشت گردوں نے مشرقی پاکستان میں حملے کیے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ بھارت اور مکتی باہنی کی مشترکہ دہشت گردانہ مہم تھی، جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا اور مشرقی پاکستان میں انتشار پیدا کرنا تھا۔

“آپریشن جیک پاٹ” بھارت اور مکتی باہنی کی جانب سے ایک مشترکہ دہشت گردی منصوبے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، لیکن یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا