خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لیے آواز اٹھانا اجتماعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے:وزیراعلیٰ سندھ

0
445

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین پر تشدد ناقابل برداشت ہے اور آج کا دن خواتین و بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے اور سماجی شعور اجاگر کرنے کی یاد دہانی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سال کی عالمی تھیم “متحد ہوں! خواتین و بچیوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے انویسٹ کریں” کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے خلاف آواز اٹھانا ایک اجتماعی، سماجی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی نوعیت میں تشدد ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام میں معاشرے کے تمام طبقات کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ سندھ حکومت نے خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے جامع قوانین وضع کیے ہیں، جن میں ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2013 گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویمن ایگری کلچرل ورکرز ایکٹ 2019 خواتین کو مساواتی اجرت اور تحفظ فراہم کرتا ہے اور سندھ حکومت نے ورک پلیس ہراسانی کے خلاف مؤثر قانونی تحفظ بھی مہیا کیا ہے، جس کے نفاذ کے لیے صوبائی محتسب فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور معاشی و معاشرتی ترقی میں خواتین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تشدد سے پاک معاشرہ ہی ترقی، انصاف اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اور سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن خواتین کے حقوق اور تشدد کے معاملات کی مانیٹرنگ کے لیے ایک مؤثر ادارہ ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا