ایمان فاطمہ کے بال کاٹنے کے معاملے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اسلام آباد پولیس نے فیصل عرف سبی کو گرفتار کیا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ واقعہ اسلام آباد نہیں بلکہ راولپنڈی کے تھانہ نصیر آباد کی حدود میں ہوا تھا۔ اسلام آباد پولیس نے فیصل کو راولپنڈی پولیس کے حوالے تو کردیا، مگر پانچ روز گزرنے کے باوجود اس کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر سنگین قانونی اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فیصل کے خلاف نہ ویڈیو، نہ آڈیو اور نہ ہی کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جبکہ اسے مبینہ طور پر اصل ملزمان تک پہنچنے کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو شبہ یا مدد کی بنیاد پر 24 گھنٹے سے زیادہ حراست میں رکھنا غیر قانونی ہے۔
دوسری طرف اصل ملزمان اب تک گرفتار نہیں کیے جا سکے، جس نے راولپنڈی پولیس کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں اور قانونی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ شفاف انکوائری کی جائے، فیصل کی قانونی حیثیت واضح کی جائے اور اصل ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے تاکہ انصاف یقینی بنایا جا سکے۔






