اسرائیلی افواج کو غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں سے فوری انخلا کرنا چاہیے:پاکستان

0
617

اسلام آباد: پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کا غزہ سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا ضروری ہے اور جنگی جرائم اور نسل کشی پر اسرائیل کا احتساب کیا جانا چاہئے۔

غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران دسیوں ہزار فلسطینی جان سے جا چکے ہیں اور کئی محلے، آبادیاں، ہسپتال، سکول اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ عالمی کوششوں کے نتیجے میں 10 اکتوبر 2025 سے فائر بندی نافذ ہوئی، تاہم اسرائیل کی جانب سے وقتاً فوقتاً حملے جاری ہیں۔

29 نومبر کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے الگ الگ پیغامات میں کہا کہ پاکستان حکومت اور عوام اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مضبوط وابستگی اور اٹل عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کی حمایت کو پاکستان کے قیام کے وقت سے اہم قرار دیتے ہوئے 1940 کی قرارداد لاہور کا حوالہ دیا، جس میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی ریاست کے قیام کا ذکر شامل تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ بندی برقرار رکھنا، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور اسرائیلی قابض افواج کی تمام خلاف ورزیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے غزہ سمیت مقبوضہ فلسطینی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا پر زور دیا اور غیر قانونی آبادکاریوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔

صدر آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کی دعا کی اور مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق، حق خود ارادیت اور ایک آزاد، مستحکم اور جغرافیائی طور پر مسلسل ریاست فلسطین کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور یہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا