اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کی تینوں بہنوں کو ابھی تک صرف اس لیے کیفرکردار تک نہیں پہنچایا گیا، کہیں یہ رونا نہ روئیں کہ میری بہنوں کو اندر کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوان ہمارے افسر اُن خلا کو بھی پُر کررہے ہیں جو صوبائی حکومتوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی انفلٹریشن اور ان کو پناہ مل جانا یہ صوبائی حکومتوں کی کوتاہی ہے۔ اس حوالے سے جو کیسز رجسٹرڈ ہیں، ان کیسز کی تعداد 3 سال کے اندر 4 ہزار سے بھی زیادہ تجاوز کر گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کیسز میں مجرمان کو سزا دینے کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ پراسکیوشن کا سسٹم صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی صاحب اڈیالہ جیل کے باہر نعرے لگانے تو آتے ہیں، جوتیوں کا ناپ دینا تو اُن کو آتا ہے لیکن پراسکیوشن کی ہجے بھی ان کو نہیں آتی۔ ان سے ذرا پراسیکیوشن کی اسپیلنگ تو پوچھیں۔
دہشت گردوں کے خلاف کیسز بنتے ہیں لیکن صوبائی حکومتوں کے اندر اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ ان پر فرد جرم عائد کرسکیں۔ سیاسی لوگوں کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں واحد صوبہ کے پی ہے جو لوگوں کو اجازت دیتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر نان کسٹم پیڈ کی نمبر پلیٹ لگائیں۔ اس کے علاوہ تمام غیر قانونی تجارت کا پیسہ دہشت گردوں کو جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں پھیلائی جانے والی افواہیں منظم سازش کا حصہ ہیں۔ پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب افغانستان سے ملک میں دراندازی ہوئی اور فوج نے انہیں پسپا کیا تو پی ٹی آئی کو اس کا دُکھ ہوا۔ پی ٹی آئی افغانستان کی حمایت میں ترجمان بنے ہوئے ہیں۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے دھماکے کے بعد محمود خان اچکزئی اسمبلی میں کھڑے ہوتے ہیں اور وہ صرف تین چیزوں پر بات کرتے ہیں: کابل، کابل اور کابل۔
انہوں نے کہا کہ ہماری فوج چاق و چوبند اتنی بڑی سرحد کی حفاظت کر رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی کہا کہ یہ صوبائی حکومت ہے جو دہشت گردوں کو پروموٹ کرتے ہیں اور انہیں شرم بھی نہیں آتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی تینوں بہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر میں موجود تھیں لیکن انہیں کیفرکردار تک اس لیے نہیں پہنچایا گیا کہ کہیں یہ رونا نہ روئیں کہ میری بہنوں کو اندر کردیا۔
وفاقی وزیر نے عمران خان کی بہن نورین خان کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ کاش آپ بھارتی میڈیا پر جاکر اپنے شہدا کی بات کرتیں اور معرکہ حق کی بات کرتیں اور وزیر اعظم شہباز شریف کو خراج عقیدت پیش کرتیں لیکن آپ کے نزدیک پاکستان کو بدنام کرنا اہم ہے۔






