وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے صوبے کے عوام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے باوجود فنڈز فراہم نہیں کیے گئے اور این ایف سی ایوارڈ کا حصہ 2018 سے وصول نہیں ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ اور 25 لاکھ سے زائد لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں۔ امن و امان کے لیے پیش کردہ حل سے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے، اور دہشت گردی کے خاتمے کے بعد بھی خطرات موجود ہیں۔
سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ دیرپا امن کے لیے صوبائی حکومت کی بات ماننی ہوگی اور اداروں کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔






