امریکا اور پاکستان کا غیر قانونی امیگریشن، انسدادِ منشیات اور سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

0
270

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے ملاقات کی، جس میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، انسدادِ منشیات اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ منشیات کی روک تھام، معلومات کے تبادلے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

امریکی سفیر نے انسدادِ منشیات اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پاکستان کو بھرپور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس موقع پر محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان کی پالیسی غیر قانونی امیگریشن کے معاملے پر بالکل واضح ہے اور حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ایئرپورٹس پر منشیات کیسز کی نشاندہی اولین ترجیح ہے اور ملک کے تمام ایئرپورٹس پر جدید سکیننگ مشینیں نصب کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی سطح پر غفلت کی گنجائش باقی نہ رہے۔ حکومت انسدادِ منشیات کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے منشیات ابھی بھی درجنوں ممالک تک پہنچ کر نوجوان نسل کو نقصان پہنچا رہی ہیں، امریکا کی جانب سے تکنیکی معاونت کی پیشکش کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل نارکوٹکس کوآرڈینیشن سینٹر جلد قائم کیا جائے گا تاکہ اداروں کے درمیان مربوط تعاون ممکن ہو سکے۔

ملاقات میں اینٹی نارکوٹکس فورس کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ سالانہ آپریشنز کے دوران 134 ٹن منشیات قبضے میں لی گئیں، 2001 ملزمان گرفتار ہوئے جن میں 75 غیر ملکی شامل تھے، جبکہ ضبط شدہ منشیات کی مالیت 12.797 بلین ڈالر رہی۔

مزید بتایا گیا کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ میں 110 افغان شہری گرفتار کیے گئے اور 40 ہزار 659 ایکڑ رقبہ کلیئر کر کے پاپی فری اسٹیٹس کو برقرار رکھا گیا۔

امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے اے این ایف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور ہر شعبے میں تعاون جاری رکھا جائے گا۔

ملاقات میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی اے این ایف، ڈائریکٹر انفورسمنٹ، امریکی سفارتخانے کے نمائندے اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا