نئے صوبے بنانے کیلئے اتفاق رائے موجود ہے، بلاول بھٹو

0
95

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر 20 نئے صوبے بنانا ہیں تو پہلے وہ صوبے قائم کیے جائیں جن پر اتفاق رائے پہلے سے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں کچھ نئے صوبوں پر اتفاق موجود ہے، اس لیے سب سے پہلے انہی پر پیش رفت ہونی چاہیے۔

سینئر صحافیوں سے ملاقات میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری اکثریت نہ ہونے کے باوجود نئے صوبوں کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں اتفاق موجود ہے، وہاں فوری عمل درآمد ممکن ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ میں جمہوری طرزِ حکمرانی بھی شامل ہے اور گورنر راج کا نفاذ بھی، جبکہ پنجاب اسمبلی نے نئے صوبے کے قیام اور بلدیاتی نظام پر قراردادیں پاس کیں، مگر سندھ کا بلدیاتی نظام اس کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ مفاہمت ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔ عدم بات چیت کی سیاست مسائل کو جنم دیتی ہے، اور کسی ایک صوبے کی صورتحال خراب ہو تو پورا نظام دباؤ میں آجاتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ تحریک انصاف کا رویہ مسلسل جارحانہ رہا ہے، جس سے نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ پورا نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی جن صوبوں کی ذمہ دار ہے وہاں کارکردگی ناکام ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب میں آکر کسی کے خلاف بات نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود برداشت نہیں کیا جاتا۔ ’’میں کہتا ہوں کہ اپنا گورنر سندھ میں لگائیں، آئیں مگر وہ نہیں آتے۔‘‘

عمران خان سے ممکنہ ملاقات کے سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں بھی ملے تھے، مگر بعد میں انہیں ہی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سب سے ملنا چاہیے تاکہ نظام آگے بڑھ سکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا