چنیوٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپنی سیاسی زندگی میں انہوں نے دو ایسے افراد دیکھے جو فرعونانہ طرزِ عمل رکھتے تھے۔ ان کے مطابق ایک بانی پی ٹی آئی تھے جو طاقت کے نشے میں دھمکیاں دیتے تھے اور دوسرے فیض حمید تھے جنہوں نے اپنے عہدے کی خلاف ورزیاں کیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف فیصلہ تاریخی ہے اور امید ہے کہ اس سے واضح پیغام جائے گا کہ ایسی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سیاست میں بری روایات ڈالیں اور آج وہ مکافاتِ عمل سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کا دورہ کامیاب رہا جبکہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر باقاعدہ بات نہیں ہوئی، تاہم پی ٹی آئی خود ایسے حالات پیدا کر رہی ہے اور یہ آئینی آپشن موجود ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے میثاقِ جمہوریت کے وعدے کو پورا کیا گیا جو پیپلز پارٹی کے منشور کی جیت ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کے ذمہ دار عوام نہیں بلکہ اسلام آباد کے بیوروکریٹس ہیں، اس لیے غلطیوں کا بوجھ صوبوں پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وفاق کی مشکلات حل کرنے کے لیے ایک تجویز دی ہے جو صوبوں کے اختیارات کم کیے بغیر عملی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں اور ان کو دی جانے والی سزا اس بات کا پیغام ہے کہ مستقبل میں ایسی غلطیاں نہ ہوں۔





